02:11 , 5 مئی 2026
Watch Live

وفاقی آئینی عدالت نے تاخیر سے فیصلوں کو غیرقانونی قرار دیا

وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے تاخیر سے فیصلوں کو غیرقانونی قرار دیا اور عدالتی نظام کے لیے اہم اصول واضح کردیے۔ اس فیصلے سے طویل عرصے تک محفوظ رکھے جانے والے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ بروقت انصاف کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا گیا۔

جسٹس عامر فاروق نے سات صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ اس فیصلے کی نقول تمام ہائی کورٹس کو بھیجی جائیں۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں عدالتی قواعد پر یکساں عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔

فیصلے کے مطابق ہائی کورٹس محفوظ شدہ مقدمات کے فیصلے 90 دن کے اندر سنانے کی پابند ہیں۔ اگر مقررہ مدت کے بعد فیصلہ سنایا جائے تو اسے اسی بنیاد پر کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی قواعد کو قانون کی حیثیت حاصل ہے۔

عدالت نے فیصلوں کے قبل از وقت لیک ہونے پر بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ عدالت کے مطابق ایسا عمل قواعد کی خلاف ورزی ہے اور عدالتی شفافیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مزید برآں، تمام ججز اور عدالتی عملہ ان اصولوں پر مکمل عمل کے پابند ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو لیز اپیل مسترد کردی

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی فیصلے کو قبل از وقت لیک کیا جائے تو بنچ کا سربراہ دوبارہ سماعت کا حکم دے سکتا ہے۔ یہ سماعت وہی بنچ یا کوئی نیا بنچ بھی کرسکتا ہے۔ مزید یہ کہ ہائی کورٹس میں ایسے معاملات چیف جسٹس کو اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں ججز کمیٹی کو بھیجے جائیں گے۔

عدالت نے زیرالتواء مقدمات اور انصاف میں تاخیر کے مسئلے پر بھی روشنی ڈالی۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ فریقین اکثر طویل انتظار کرتے ہیں، جبکہ پیچیدہ قانونی نکات کی وجہ سے فیصلے محفوظ کیے جاتے ہیں۔ تاہم، سندھ ہائی کورٹ کے 10 ماہ بعد سنائے گئے فیصلے نے اس مسئلے کو نمایاں کیا، اور وفاقی آئینی عدالت نے تاخیر سے فیصلوں کو غیرقانونی قرار دیا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION